نئی دہلی،18 /دسمبر(آئی این ایس انڈیا) مغربی بنگال میں بی جے پی کے رہنماؤں کے خلاف درج ایف آئی آر کیس میں سپریم کورٹ نے ان رہنماؤں کو بڑی راحت دیا ہے۔
بی جے پی قائدین قومی نائب صدر مکل رائے، قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ، رکن پارلیمنٹ ارجن سنگھ کی درخواست پر سپریم کورٹ نے مغربی بنگال حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے اگلے احکامات تک بی جے پی قائدین کے خلاف کارروائی کرنے پر پابندی لگادی ہے۔ اس معاملے میں عدالت نے مرکز، سی بی آئی اور دیگر کو بھی نوٹس بھیجے گئے ہیں۔
ارجن سنگھ کے وکیل مکل روہتگی نے بتایا کہ جب سے انہوں نے ٹی ایم سی چھوڑا ہے اس کے بعد سے 64 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ سنگھ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ میں ایک رکن پارلیمنٹ ہوں اور میرے خلاف فسادات کے مقدمات درج کیے گئے ہیں، جو سیاست سے متاثر ہیں۔
وہیں کیلاش وجے ورگیہ کی جانب سے یہ کہا گیا کہ میں ایک مدھیہ پردیش سے رکن پارلیمنٹ ہوں، پارٹی افسر ہوں جب سے مغربی بنگال تشہیرکے لئے جانا شروع کیا، اس کے بعد میرے خلاف مقدمات درج ہونے لگے۔ بی جے پی لیڈر کبیر شنکر بوس کے وکیل نے ان کی طرف سے کہا کہ ذاتی خطروں کی وجہ سے میرے پاس سی آئی ایس ایف سیکورٹی ہے، میں بی جے پی کا ترجمان ہوں، مجھ پر حملہ ہوا۔ 6 دسمبر کو کبیر بوس پر حملے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے سی آئی ایس ایف سے بھی جانچ رپورٹ بند لفافے میں طلب کی ہے۔